
سفرِ محبت (قسط 2)
لاہور کی پرانی گلیوں میں جب بارش برستی تھی، تو ایسا لگتا تھا جیسے ہر دیوار اور ہر پتھر ماضی کی کوئی بھولی بسری داستان سنا رہا ہو۔ حمزہ کے لیے یہ موسم صرف ایک خوبصورت منظر نہیں، بلکہ اس کے آرٹ کا حصہ تھا۔ ۲۴ سالہ حمزہ پیشے کے لحاظ سے ایک فوٹوگرافر اور آرٹسٹ تھا، جس کی گہری آنکھیں اور سنجیدہ چہرہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا پتہ دیتے تھے۔ وہ اکثر اپنے گلے میں کیمرہ لٹکائے ان پرانی گلیوں میں گھومتا اور عام سی چیزوں میں چھپی خوبصورتی کو اپنے لینس میں قید کر لیتا۔
اس شام بھی بارش اچانک شروع ہوئی تھی۔ حمزہ نے اپنے قیمتی کیمرے کو بچانے کے لیے انارکلی بازار کی ایک پرانی کتابوں کی دکان کے سائے تلے پناہ لی۔ دکان کے باہر لکڑی کے ریک پر پرانی اور نایاب کتابیں سجائی گئی تھیں، جن پر پڑنے والی بارش کی بوندیں ایک عجیب سا جادو جگا رہی تھیں۔ حمزہ ابھی ایک تصویر لینے ہی والا تھا کہ اس کی نظر دکان کے اندر کھڑی ایک لڑکی پر پڑی۔
وہ زویا تھی، 22 سالہ اردو ادب کی طالبہ، جس کی بڑی بڑی سحر انگیز آنکھیں اور کھلے ہوئے لمبے سیاہ بال اس کی سادگی کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ ہلکے گلابی رنگ کے روایتی کرتے میں ملبوس، انتہائی غور سے ایک پرانی کتاب کے صفحات پلٹ رہی تھی۔ زویا کے چہرے پر ایک ایسی معصومیت تھی جس نے حمزہ کے ہاتھ میں موجود کیمرے کی انگلی کو خود بخود کلک کرنے پر مجبور کر دیا۔

شاید کلک کی آواز زویا کے کانوں تک پہنچ گئی تھی، یا پھر اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ اس نے اچانک سر اٹھایا اور اس کی نظریں سیدھی حمزہ سے ٹکرائیں۔ حمزہ نے گھبرا کر اپنا کیمرہ نیچے کر لیا اور شرمندگی چھپانے کے لیے دکان کے اندر داخل ہو گیا۔
"معذرت! میں بس اس خوبصورت ماحول کی تصویر لے رہا تھا،" حمزہ نے مسکرا کر اپنی صفائی پیش کی۔
زویا نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ "آرٹسٹ لوگ ہر چیز میں کہانی ڈھونڈ لیتے ہیں، ہے نا؟" اس کی آواز میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔
اس ایک جملے نے دونوں کے درمیان موجود اجنبیت کی برف کو پگھلا دیا۔ حمزہ نے زویا کی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں پوچھا، اور زویا نے حیرت سے جانا کہ یہ لڑکا صرف تصویریں نہیں کھینچتا، بلکہ الفاظ کی گہرائی کو بھی سمجھتا ہے۔ دونوں دکان کے ایک کونے میں کھڑے گھنٹوں باتیں کرتے رہے، اور باہر بارش کا زور کم ہو کر ہلکی بونداباندی میں بدل گیا۔
جب زویا جانے کے لیے اٹھی، تو حمزہ کا دل چاہا کہ یہ وقت یہیں رک جائے۔ لیکن وہ صرف الوداع کہہ سکا۔ جلدی میں دکان سے نکلتے ہوئے، زویا کا ایک چھوٹا سا چمڑے کا ڈائری نما نوٹ بک وہیں میز پر چھوٹ گیا، جس پر اس کا نام اور یونیورسٹی کا شعبہ لکھا ہوا تھا۔ حمزہ نے وہ ڈائری اٹھائی اور اس کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ یہ ان کی اگلی ملاقات کا بہانہ تھا۔
📖 یہ بھی پڑھیں: اگر آپ سسپنس اور تجسس کے دلدادہ ہیں، تو ہماری بالکل نئی اور مقبول ترین کہانی "پراسرار گھڑی کا راز" پڑھنا نہ بھولیں، جہاں ایک گھڑی نے پورے خاندان کی تقدیر بدل دی۔
اگلے ہی دن، حمزہ زویا کی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے باہر کھڑا تھا۔ اس کا دل معمول سے زیادہ تیز دھڑک رہا تھا۔ جب اس نے زویا کو سہیلیوں کے ساتھ آتے دیکھا، تو اس نے آگے بڑھ کر اسے آواز دی۔
"زویا!"
زویا نے مڑ کر دیکھا اور حمزہ کو وہاں پا کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جب حمزہ نے اس کی کھوئی ہوئی ڈائری اس کے سامنے کی، تو زویا کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ "میرا خیال تھا یہ ہمیشہ کے لیے کھو گئی! اس میں میری لکھی ہوئی تمام نظمیں تھیں،" زویا نے ڈائری کو اپنے دل سے لگاتے ہوئے کہا۔
اس دن کے بعد، ان کی ملاقاتوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ گہری دوستی اور پھر ایک ان کہی محبت میں بدل گیا۔ وہ اکثر یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھتے، جہاں حمزہ زویا کے لیے چائے لاتا اور زویا اسے اپنی لکھی ہوئی رومانوی نظمیں سناتی۔ حمزہ نے زویا کے اتنے پورٹریٹ (تصویریں) بنائے تھے کہ اس کے اسٹوڈیو کی دیواریں زویا کے چہرے سے سج چکی تھیں۔

مہینے پر لگا کر اڑتے گئے اور ان کا یہ خوبصورت سفر اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔ حمزہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب اپنے دل کی بات زویا سے چھپا کر نہیں رکھے گا۔ وہ اسے لاہور کے ایک مشہور باغ میں لے گیا، جہاں شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور ہوا میں چمبیلی کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
حمزہ نے زویا کے سامنے ایک خوبصورت اسکیچ بک رکھی۔ زویا نے جب اسے کھولا، تو اس کے اندر ان کی پہلی ملاقات سے لے کر اب تک کے تمام خوبصورت لمحات کی تصویریں اور خاکے بنے ہوئے تھے، اور آخری صفحے پر بڑے خوبصورت الفاظ میں لکھا تھا: "کیا تم اس سفرِ محبت میں ہمیشہ کے لیے میری ہمراہی بنو گی؟"
زویا کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چمکنے لگے۔ اس نے حمزہ کی طرف دیکھا اور ابھی وہ جواب دینے ہی والی تھی کہ اس کا موبائل فون زور سے بج اٹھا۔ فون پر اس کے والد کا نام چمک رہا تھا۔
زویا نے کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے آنے والی آواز نے زویا کے چہرے کا رنگ اڑا دیا۔ اس کے والد کی آواز غصے اور صدمے سے کانپ رہی تھی: "زویا! تم فوراً گھر آ جاؤ۔ تمہاری شادی تمہارے تایا کے بیٹے سے طے کر دی گئی ہے، اور بارات اگلے ہفتے آ رہی ہے!"
فون زویا کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ حمزہ کا دل ایک انجانے خوف سے بیٹھ گیا کیونکہ سسپنس اور محبت کا سب سے بڑا امتحان اب شروع ہونے والا تھا۔
اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
عزیز قارئین!
کیا زویا اپنے والد کے فیصلے کے سامنے جھک جائے گی؟ کیا حمزہ اپنی محبت کو بچانے کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھائے گا؟ اس کہانی کی قسط نمبر 2 بہت جلد لائیو کی جائے گی۔ آپ کو یہ پہلی قسٹ کیسی لگی؟ نیچے کمنٹ باکس میں اپنی رائے دیں اور اسے اپنے واٹس ایپ پر ضرور شیئر کریں!
