Safar e Muhabbat (Akhri Qist) - Best Urdu Romantic Story

0

 

safar e muhabbat

سفرِ محبت (آخری قسط)

سڑک کے دونوں اطراف کھڑی کالی گاڑیوں سے نکلنے والے مسلح افراد نے جب حمزہ کی گاڑی کو گھیرا، تو ایک لمحے کے لیے حمزہ کے پورے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ عادل کا سب سے قریبی غنڈہ پسٹل تانے گاڑی کے شیشے پر مار رہا تھا۔ حمزہ جانتا تھا کہ اگر آج وہ یہاں رک گیا، تو زویا ہمیشہ کے لیے ایک ظالم انسان کی قید میں چلی جائے گی اور اس کا یہ سفرِ محبت ادھورا رہ جائے گا۔

حمزہ نے اپنے خوف پر قابو پایا۔ اس نے گاڑی کا لاک بند کیا، پیچھے دیکھا اور بغیر سوچے سمجھے گاڑی کو فل سپیڈ میں ریورس (Reverse) کر دیا۔ غنڈوں نے فائرنگ شروع کر دی، ایک گولی گاڑی کے پچھلے شیشے کو توڑتی ہوئی گزر گئی، لیکن حمزہ نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے پرانی گلیوں کے کچے راستوں پر گاڑی کو اس مہارت سے دوڑایا کہ عادل کے آدمی دھول کے غبار میں پیچھے رہ گئے۔ اس کے پاس عادل کے خلاف وہ تمام ڈیجیٹل ثبوت اور دستاویزات موجود تھیں جو اس کی حقیقت کھولنے کے لیے کافی تھیں۔

urdu story

اگلی صبح لاہور کا وہ نجی میرج ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا جہاں زویا کی شادی کی تقریب جاری تھی۔ لیکن ہال کے اندر موجود رونق کے برعکس، دلہن کے کمرے میں ماتم کا سماں تھا۔ زویا سرخ رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس، آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی سحر انگیز ہیزل آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں اور چہرے پر زندگی کا کوئی رنگ باقی نہیں تھا۔

"زویا بیٹا، اب آنسو پونچھ لو۔ بارات آ چکی ہے اور مولوی صاحب نکاح کے لیے آنے والے ہیں،" اس کی ماں نے تڑپ کر کہا۔ زویا نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ بس اپنے ہاتھ پر لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی جس میں عادل کا نام کسی زہریلے ناگ کی طرح لکھا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

ہال کے مرکزی حصے میں عادل اور اس کے والد انتہائی غرور سے بیٹھے ہوئے تھے۔ زویا کے والد مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے کہ اچانک ہال کے بڑے دروازے زور سے کھلے۔ ہال میں موجود ہر شخص کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔

وہاں حمزہ کھڑا تھا، اس کے ساتھ لاہور پولیس کے دو اعلیٰ افسران اور اس کے معزز والد بھی موجود تھے۔ حمزہ کے چہرے پر تھکن ضرور تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی۔

ishq ki dastaan

"یہ شادی نہیں ہو سکتی!" حمزہ کی کڑکتی ہوئی آواز پورے ہال میں گونجی۔

عادل نے غصے سے کھڑے ہو کر کہا، "یہ سڑک چھاپ فوٹوگرافر یہاں کیا کر رہا ہے؟ سکیورٹی کہاں ہے؟ اسے باہر نکالو!"

لیکن اس سے پہلے کہ سکیورٹی آگے بڑھتی، پولیس انسپکٹر نے آگے بڑھ کر عادل کا ہاتھ پکڑ لیا۔ حمزہ نے زویا کے والد کے پاس جا کر ایک بڑا ٹیبلٹ (Tablet) ان کے ہاتھ میں تھمایا، جس پر عادل کی مافیا کے ساتھ مل کر غریبوں کی زمینیں ہڑپ کرنے کی آڈیو ریکارڈنگز، بینک ٹرانزیکشنز اور پولیس کی ایف آئی آر (FIR) کی کاپیاں کھلی ہوئی تھیں۔

"انکل! آپ جس انسان کو اپنی خاندانی عزت سمجھ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ دے رہے ہیں، وہ ایک نمبر کا دھوکے باز اور مجرم ہے۔ یہ ثبوت دیکھ لیں،" حمزہ نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔

زویا کے والد نے جب دستاویزات دیکھیں اور عادل کی اپنی زبان سے کی گئی ریکارڈنگ سنی جس میں وہ زویا کی یونیورسٹی کی جائیداد کو اپنے نام کرنے کا پلان بنا رہا تھا، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کا سر شرمندگی اور صدمے سے جھک گیا۔ انہوں نے غصے سے مڑ کر اپنے بھائی (تایا) کی طرف دیکھا۔

"تم لوگوں نے میری معصوم بیٹی کی زندگی کے ساتھ اتنا بڑا کھیل کھیلا؟ نکل جاؤ میرے گھر سے اور لے جاؤ اپنی یہ بارات!" زویا کے والد نے دھاڑتے ہوئے کہا۔ پولیس نے موقع پر ہی عادل اور اس کے والد کو فراڈ کے الزام میں ہتھکڑی لگا دی اور ہال میں تالیاں گونج اٹھیں۔

ishq junoon

جب سب مہمان چلے گئے، تو ہال میں صرف دونوں خاندان باقی رہ گئے۔ زویا کے والد حمزہ کے والد کے پاس آئے اور ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔ "شاہ صاحب! مجھے معاف کر دیں، میں نے آپ کی شرافت اور آپ کے بیٹے کے سچے جذبوں کو نہیں پہچانا۔ اگر آج حمزہ نہ ہوتا، تو میری بیٹی جیتے جی مر جاتی۔"

انہوں نے زویا کو کمرے سے باہر بلایا۔ زویا جو اب تک ڈری ہوئی تھی، جب اس نے عادل کو گرفتار ہوتے اور حمزہ کو وہاں کھڑے دیکھا، تو اسے لگا جیسے اسے نئی زندگی مل گئی ہو۔

"زویا بیٹا! کیا تم اس لڑکے کے ساتھ اپنے اس سفرِ محبت کو ہمیشہ کے لیے مکمل کرنا چاہو گی؟" اس کے ابو نے مسکرا کر پوچھا۔

زویا نے شرما کر اپنا سر جھکا لیا اور ہال میں موجود تمام لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسی ہال میں، اسی وقت، مولوی صاحب نے حمزہ اور زویا کا نکاح پڑھایا۔ دونوں کا یہ خوبصورت اور مشکل سفرِ محبت بالآخر اپنی سچی اور دائمی منزل تک پہنچ گیا تھا۔


محترم قارئین!

سچی محبت ہمیشہ مشکلات کے بعد ہی اپنی منزل پاتی ہے۔ حمزہ اور زویا کی اس خوبصورت داستان کا انجام آپ کو کیسا لگا؟ کیا آپ ایسی مزید "عشق و محبت" کی قسط وار کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں؟ اپنی قیمتی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ واٹس ایپ پر شیئر کرنا نہ بھولیں!

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !