Safar e Muhabbat (Qist 2) - Romantic Urdu Story

0

safar e muhabbat 

سفرِ محبت (قسط 2)

فون ہاتھ سے چھوٹ کر قالین پر گرا تو اس کی سکرین پر لگی دراڑ بالکل زویا کے دل پر لگی دراڑ جیسی تھی۔ باغ میں چمبیلی کی خوشبو اب حمزہ کو دم گھٹاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ زویا کے چہرے کی معصومیت اور سرخی سیکنڈوں میں زرد پڑ چکی تھی۔ وہ بے جان پتھر کی طرح بینچ پر بیٹھی سامنے خالی خلا میں دیکھ رہی تھی، جہاں چند منٹ پہلے اس کا مستقبل حمزہ کے خوبصورت اسکیچز کی صورت میں مسکرا رہا تھا۔

حمزہ نے جھک کر فون اٹھایا اور زویا کے قریب بیٹھ گیا۔ "زویا۔۔۔ کیا ہوا؟ کس کا فون تھا؟" اس کی آواز میں ایک انجانا خوف تھا، وہ خوف جو ہر سچی محبت کرنے والے کو زمانے کے فیصلوں سے لگتا ہے۔

زویا نے بوجھل نظروں سے حمزہ کی طرف دیکھا، اس کی بڑی بڑی سحر انگیز آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ "حمزہ، اب سب کچھ ختم ہو گیا۔ میرے ابو۔۔۔ انہوں نے میری شادی میرے تایا کے بیٹے عادل سے طے کر دی ہے۔ بارات اگلے ہفتے آ رہی ہے۔ انہوں نے مجھے ابھی فوراً گھر بلایا ہے۔" زویا کی آواز سسکیوں میں بدل گئی۔

urdu kahani

حمزہ کا دماغ ایک لمحے کے لیے سن ہو گیا، لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس وقت وہ بھی ہمت ہار گیا تو زویا بالکل ٹوٹ جائے گی۔ اس نے نرمی سے زویا کا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ "زویا، میری طرف دیکھو۔ کچھ ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ایک مشکل راستہ ہے، منزل اب بھی ہماری ہے۔ تم گھر جاؤ اور اپنی امی سے بات کرو۔ میں کل ہی اپنے والدین کو لے کر تمہارے گھر آؤں گا۔"

زویا نے نفی میں سر ہلایا۔ "تم میرے ابو کو نہیں جانتے حمزہ۔ وہ اپنی خاندانی روایات اور زبان کے پکے ہیں۔ تایا زاد سے شادی کا فیصلہ برسوں پہلے ہو چکا تھا، مجھے بس آج بتایا گیا ہے۔ وہ کسی آرٹسٹ، کسی فوٹوگرافر کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔"

شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے اور دونوں کو بھاری دل کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا ہونا پڑا۔ حمزہ نے زویا کو گاڑی میں بٹھایا، لیکن اس کا دل وہیں زویا کے پاس ہی رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اگر آپ نے اس خوبصورت داستان کا آغاز مس کر دیا ہے، تو ابھی کلک کر کے پڑھیں ہماری مقبول پوسٹ "سفرِ محبت (قسط 1)" اور جانیں حمزہ اور زویا کی پہلی ملاقات کا احوال۔

زویا جب گھر پہنچی تو پورا گھر لائٹس اور مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ تایا کا خاندان گاؤں سے آ چکا تھا اور ہر طرف شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ زویا سیدھی اپنی ماں کے کمرے میں گئی اور ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

"امی! میں عادل سے شادی نہیں کر سکتی۔ وہ ایک ضدی اور جاہل انسان ہے۔ میں نے یونیورسٹی میں حمزہ کو پسند کیا ہے، وہ بہت اچھا لڑکا ہے،" زویا نے اپنی ماں کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔

اس کی ماں نے خوفزدہ ہو کر زویا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ "خدا کے لیے زویا، یہ بات دوبارہ زبان پر نہ لانا! تمہارے ابو اگر سن لیں گے تو وہ جیتے جی مر جائیں گے۔ خاندانی عزت کا سوال ہے بیٹا۔ عادل تمہارے تایا کا بیٹا ہے، تمہارے ابو اپنے بھائی کو دی ہوئی زبان سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

دوسری طرف، حمزہ رات بھر اپنے کمرے میں بے چین ٹہلتا رہا۔ اس کے اسٹوڈیو کی دیواروں پر لگی زویا کی تصویریں جیسے اس سے سوال کر رہی تھیں کہ کیا تم ہمیں یہیں اکیلا چھوڑ دو گے؟ حمزہ نے فیصلہ کیا کہ وہ روایتی لڑکوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گا۔ اگلی صبح، اس نے اپنے والد کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ اس کے والد نے پہلے تو غصہ کیا، لیکن حمزہ کی سچی محبت دیکھ کر انہوں نے زویا کے والد سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

urdu novel

شام کے وقت، حمزہ کے والد زویا کے گھر پہنچے۔ حمزہ باہر گاڑی میں بیٹھا دعا کر رہا تھا۔ اندر کا ماحول انتہائی کشیدہ تھا۔ جب حمزہ کے والد نے شرافت سے زویا کا ہاتھ حمزہ کے لیے مانگا، تو زویا کے والد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

"معذرت شاہ صاحب! ہماری بیٹیاں خاندانی فیصلوں سے باہر نہیں جاتیں۔ اور میں اپنی پڑھی لکھی بیٹی کا ہاتھ کسی ایسے لڑکے کو نہیں دے سکتا جو سڑکوں پر کیمرہ لیے تصویریں کھینچتا پھرتا ہو۔ یہ کوئی مستقل روزگار نہیں ہے۔ میری بیٹی کی شادی طے ہو چکی ہے اور اگلے ہفتے بارات ہے۔ آپ تشریف لے جا سکتے ہیں،" زویا کے والد نے دو ٹوک اور تلخ لہجے میں جواب دیا۔

جب حمزہ کے والد باہر آئے، تو ان کا جھکا ہوا سر دیکھ کر حمزہ سب سمجھ گیا۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا، لیکن اس کا ارادہ اب بھی چٹان کی طرح مضبوط تھا۔

romantic

شادی میں صرف تین دن باقی رہ گئے تھے۔ زویا کو گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا تھا اور اس سے اس کا فون بھی لے لیا گیا تھا۔ وہ دن رات روتی اور صرف حمزہ کے بارے میں سوچتی۔

ادھر حمزہ نے اپنے سب سے بہترین دوست اور اپنے فوٹوگرافی نیٹ ورک کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے معلوم ہوا کہ عادل (زویا کا منگیتر) دراصل گاؤں میں معصوم لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرنے والے ایک مقامی مافیا کا حصہ ہے اور اس کے پیچھے کئی ایسے راز ہیں جو اگر زویا کے والد کے سامنے آ جائیں تو وہ خود یہ شادی روک دیں گے۔

حمزہ کے پاس وقت بہت کم تھا اور ثبوت اکٹھے کرنا ایک خطرناک کھیل تھا۔ مہندی کی رات آ چکی تھی، زویا کے ہاتھوں پر عادل کے نام کی مہندی لگائی جا رہی تھا اور اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو اس مہندی کے رنگ کو دھندلا رہے تھے۔ اسی رات، حمزہ کیمرہ اور کچھ خفیہ دستاویزات لیے زویا کے گاؤں سے واپس لاہور کی طرف تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا، لیکن اچانک اس کی گاڑی کے سامنے دو کالی گاڑیاں آ کر رکیں اور چند مسلح افراد نے حمزہ کی گاڑی کو گھیر لیا۔

کیا حمزہ زویا کے گھر پہنچ پائے گا؟ یا عادل کے آدمی حمزہ کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیں گے؟

آخری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

عزیز قارئین!

کیا حمزہ وقت پر ثبوت لے کر زویا کے والد تک پہنچ سکے گا؟ کیا عادل کے غنڈے حمزہ کو نقصان پہنچائیں گے؟ محبت اور سسپنس کا یہ موڑ آپ کو کیسا لگا؟ اس کہانی کی آخری اور سنسنی خیز قسط (قسط نمبر 3) بہت جلد لائیو ہوگی۔ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ باکس میں ضرور کریں اور اس پوسٹ کو واٹس ایپ پر شیئر کرنا نہ بھولیں!

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !