Sunehri Chiriya Aur Chota Ahmad

0

bachoo ki kahani

سنہری چڑیا اور چھوٹااحمد

کسی خوبصورت اور ہری بھری وادی کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ اس گاؤں میں احمد نام کا ایک معصوم اور رحم دل بچہ اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ احمد کی عمر یہی کوئی سات سال ہوگی، لیکن اس کا دل بہت بڑا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے اسکول کے دوستوں کا خیال رکھتا، بلکہ گلی کے آوارہ جانوروں اور درختوں پر چہچہاتی چڑیوں سے بھی اسے خاص محبت تھی۔ وہ روزانہ صبح اپنے گھر کے صحن میں پرندوں کے لیے دانہ اور پانی رکھتا تھا، اور چڑیوں کا چہچہانا اسے دنیا کا سب سے خوبصورت گیت لگتا تھا۔

احمد کا ایک اصول تھا کہ وہ کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا تھا اور ہمیشہ سچ بولتا تھا۔ اس کے والدین اسے روزانہ رات کو انبیاء کرام اور نیک لوگوں کے قصے سناتے، جن سے احمد نے یہ سیکھا تھا کہ جو دوسروں پر رحم کرتا ہے، اللہ پاک اس پر اپنا خاص کرم فرماتا ہے۔

urdu kids story

ایک رات گاؤں میں بہت تیز طوفان آیا۔ ٹھنڈی اور تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ موسلا دھار بارش نے پورے گاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ احمد رات بھر کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا اور اسے درختوں پر موجود معصوم پرندوں کا خیال ستا رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں ان کے لیے دعا کر رہا تھا کہ یا اللہ! سب پرندوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا۔

اگلی صبح جب طوفان تھما اور سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی، تو احمد فوراً اپنے صحن کی طرف بھاگا۔ وہاں کا منظر دیکھ کر اس کا دل اداس ہو گیا۔ صحن میں لگے پرانے نیم کے درخت سے پرندوں کے گھونسلے گر چکے تھے اور ہر طرف پتوں کا ڈھیر تھا۔ احمد نے اداسی سے زمین پر دیکھا تو اچانک اس کی نظر جھاڑیوں کے پیچھے پڑی۔ وہاں کوئی چیز ہلکی سی چمک رہی تھی۔

احمد نے جب قریب جا کر جھاڑیوں کو ہٹایا، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہاں ایک انتہائی خوبصورت اور انوکھی چڑیا پڑی تھی، جس کے پر سونے کی طرح چمک رہے تھے۔ وہ عام چڑیوں جیسی نہیں تھی، بلکہ ایک جادوئی سنہری چڑیا تھی، لیکن طوفان کی وجہ سے اس کا ایک پر زخمی ہو چکا تھا اور وہ اڑنے کے قابل نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اگر آپ نے ہماری پچھلی جذباتی اور مقبول رومانوی کہانی "دل کی دھڑکن" نہیں پڑھی، تو ابھی پڑھیں اور ایک سچی محبت کا سفر محسوس کریں۔

چڑیا درد سے تڑپ رہی تھی اور اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں خوف تھا۔ احمد نے بغیر ڈرے انتہائی نرمی سے اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ چڑیا نے پہلے تو ڈر کے مارے اپنے پر ہلائے، لیکن جب اس نے احمد کی آنکھوں میں محبت اور ہمدردی دیکھی، تو وہ پرسکون ہو گئی۔ احمد اسے اپنے کمرے میں لے آیا اور اپنی امی کو پکارا۔

احمد کی امی نے جب اس سنہری چڑیا کو دیکھا تو وہ بھی دنگ رہ گئیں، لیکن انہوں نے فوراً احمد کی مدد کی۔ احمد نے گرم پانی سے چڑیا کے زخم کو صاف کیا اور اس پر ہلدی کا لیپ لگایا، جو اس کی امی نے تیار کیا تھا۔ پھر اس نے چڑیا کو ایک نرم کپڑے کے بستر پر لٹا دیا اور اس کے سامنے چاول کے دانے اور پانی کا چھوٹا سا کٹورا رکھ دیا۔

کچھ ہی دنوں میں احمد کی دن رات کی دیکھ بھال اور محبت کی وجہ سے سنہری چڑیا کا زخم ٹھیک ہونے لگا۔ اب وہ احمد کے کندھے پر بیٹھ کر پورے گھر میں گھومتی اور جب احمد اسکول سے آتا، تو وہ خوشی سے چہچہانے لگتی۔ احمد نے اس کا نام "سونا" رکھ دیا تھا۔

Bachoo ki kahani

ایک دن گاؤں کا ایک لالچی سوداگر احمد کے گھر آیا۔ جب اس نے احمد کے کندھے پر بیٹھی سنہری چڑیا کو دیکھا، تو اس کی آنکھیں لالچ سے چمک اٹھیں۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اس چڑیا کو پکڑ کر شہر کے بادشاہ کو بیچ دے، تو اسے اس کے بدلے بہت ساری دولت اور سونے کے سکے ملیں گے۔

سوداگر نے احمد سے کہا، "بچے! یہ چڑیا مجھے بیچ دو۔ میں تمہیں اس کے بدلے اتنے پیسے دوں گا کہ تم جو چاہو خرید سکتے ہو، نئے کھلونے، نئے کپڑے اور ڈھیروں مٹھائیاں۔"

احمد نے فوراً انکار کر دیا اور کہا، "نہیں چچا! سونا میری دوست ہے اور دوستوں کو بیچا نہیں جاتا۔ یہ کوئی عام چیز نہیں ہے، یہ ایک جاندار ہے اور اسے آزاد رہنے کا پورا حق ہے۔" سوداگر نے احمد کو بہت ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، لیکن احمد اپنے فیصلے پر قائم رہا اور سچائی کا دامن نہیں چھوڑا۔ جب سوداگر مایوس ہو کر چلا گیا، تو سنہری چڑیا نے احمد کے گال کو اپنے چھوٹے سے پر سے چھوا، جیسے وہ اس کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔

urdu kids

اب سنہری چڑیا مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی تھی اور اس کے پروں میں دوبارہ اڑنے کی طاقت آ گئی تھی۔ ایک شام، جب آسمان سرخ اور سنہری رنگوں سے سج رہا تھا، سونا کھڑکی کے پاس بیٹھ کر باہر کھلے آسمان کو دیکھنے لگی۔ احمد سمجھ گیا کہ اب اس کی دوست کے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ اس کا دل تو اداس تھا، لیکن وہ اپنی دوست کی آزادی پر خوش بھی تھا۔

احمد نے کھڑکی کھولی اور سونا کو اپنے ہاتھ پر بٹھایا۔ سونا نے اڑنے سے پہلے احمد کے ہاتھ پر ایک چھوٹا سا چمکدار موتی گرایا۔ یہ کوئی عام موتی نہیں تھا، بلکہ برکت کا موتی تھا۔ اس کے بعد، سونا نے اپنے خوبصورت سنہری پر پھیلائے اور اونچے آسمان کی طرف اڑ گئی۔

اس دن کے بعد سے احمد کے گھر میں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہوئی۔ اس کے والد کی فصلیں بہت اچھی ہونے لگیں اور ان کا پورا گھر خوشیوں سے بھر گیا۔ احمد نے سیکھ لیا تھا کہ ہمدردی، سچائی اور بے لوث محبت کا صلہ ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے۔


پیارے بچوں اور والدین!

آپ کو احمد اور سنہری چڑیا کی یہ کہانی کیسی لگی؟ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ پرندوں اور جانوروں پر رحم کرنا چاہیے اور کبھی لالچ میں نہیں آنا چاہیے۔ کیا آپ بھی اپنے گھر کے صحن میں پرندوں کے لیے دانہ پانی رکھتے ہیں؟ نیچے کمنٹ باکس میں ہمیں ضرور بتائیں اور اپنے چھوٹے دوستوں کے ساتھ یہ کہانی شیئر کریں!

دستیاب کہانیاں

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !